اطلاعات کے مطابق سروے نمبر 59 میں واقع 36 ایکڑ اراضی 12 کسانوں کے زیرِ قبضہ تھی تاہم حکام نے اسے سرکاری اراضی قرار دیا۔ اس اراضی کی مالیت تقریباً 3600 کروڑ روپے لگائی گئی ہے۔
انہدامی کارروائی کی اطلاع پا کر مقامی افراد بڑی تعداد میں موقع پر پہنچے جنہوں نے اس کارروائی کے خلاف مزاحمت کی اور احتجاج شروع کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اراضی گزشتہ 60 برسوں سے ان کے قبضے میں ہے اور انہوں نے انہیں نسل در نسل محفوظ رکھا ہے۔ اب اس اراضی پر حکومت کی اجارہ داری مسلط کرنا ناانصافی ہے۔
ادھر انہدامی کارروائی کے مقام پر پولیس نے میڈیا کو داخلے کی اجازت نہیں دی۔ صحافیوں اور مقامی افرادکو دو کلو میٹر دور ہی روک دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اراضی پر گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے تنازعہ چل رہا ہے۔
